ہاکس بے کراچی کا ساحل سبزکچھوؤں کے لیے موت کا دہانہ بن گیا | اردو میڈیا

admin
admin 23 December, 2022
Updated 2022/12/23 at 12:07 PM
21 Min Read
2418586 turtle 1671794994
2418586 turtle 1671794994

کراچی: ہاکس بے کا ساحل گرین ٹرٹلز(سبزکچھووں)کے لیے موت کا دہانہ بن چکا ہے،ساحلوں پربڑھتی تعمیرات کی وجہ سے کچھوؤں کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔
مادہ کچھواگنجان آبادی والے ساحلوں پرانڈے دینے پرمجبورہے،تفریحی ہٹس پرہونے والی ڈانس پارٹیز،میوزک شورشرابے،تیزبرقی قمقموں کی چکاچوند،سمندرکنارے فراٹے بھرتی کاروں نےگرین ٹرٹل کے افزائش نسل کے مقام کو تباہی سے دوچارکردیا،ساحل پرموجود آوارہ کتے اورچیل کوے بھی کچھوؤں کے لیے عفریت ثابت ہورہے ہیں۔
ساحلوں کی آلودگی اوردیگرمتفرق خطرات کی وجہ سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے) کراچی کے ساحلوں سے روٹھ چکے ہیں،واحد رہ جانے والی نسل گرین ٹرٹل(سبزکچھوؤں)کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
مادہ کچھوا دماغ میں موجود قدرتی مقناطیسی سیال کی وجہ سے اپنی اوسط عمر70سال میں 10سے15مرتبہ افزائش نسل کے لیے اپنی جائے پیدائش کا رخ کرتی ہے۔
کرہ ارض کی خشکی وپانی پرصدیوں سے موجود کچھوا وہ واحد جاندارہے،جس کو اپنے بچے دیکھنا نصیب نہیں ہوتے۔
ہاکس بے کے ساحلی مقامات سینڈزپٹ اورپیراڈائزپوائنٹ سمیت تاحدنگاہ پھیلا ساحل آبی حیات کے لیے عفریت بنتا جارہا ہے،سمندرکنارے بڑی تعداد میں ماضی قریب اورماضی بعید میں بننے والے تفریحی ہٹس کی تعمیرنے ان کچھوؤں سے قدرتی مسکن چھین لیے۔
رات کے وقت ان ہٹس میں ڈانس پارٹیوں،بلند آوازمیں بجنے والامیوزک،غل غپاڑہ،تیزبرقی قمقموں اورچکاچوند کا سبب بننے والی اسپاٹ اور فلڈلائٹس کا بے دریغ استعمال ان مادہ کچھوؤں کے لیے موت کا دہانہ ثابت ہورہی ہیں۔
رہی سہی کسران نجی محفلوں کے دوران ڈیزرٹ سفاری(موٹربائیک)،گھڑسواری جبکہ بیش قیمت فراٹے بھرتی کاروں کا سمندرکنارے آزادنہ اوردھڑلے سے نقل وحرکت ہے،جس نے کچھوؤں کے اس قدرتی مسکن کو تباہی کےدہانے پرپہنچادیا۔
ان کچھوؤں کی بقا کے لیے کام کرنے والےمقامی رضا کار شاہ میربلوچ کے مطابق نشے میں دھت ان بگڑے رئیس زادوں کو اگرمنع کیا جاتا ہے،تویہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیتے ہیں،اوربسااوقات جارحانہ رویے کے دوران انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کرتے۔
گرین ٹرٹل(سبزکچھوے)کی مادہ کے انڈوں اوربچوں کے لیے ایک بہت بڑاخطرہ ساحل پرمٹرگشت کرنے والے آوارہ کتے اورفضاوں میں منڈلاتے چیل کوے ہیں،جوان کے انڈے بچے کھاجاتےہیں۔
آج سے دودہائی قبل سمندری کچھوؤں کی سات اقسام سندھ،بلوچستان کے ساحلی مقامات پرپائی جاتی تھیں،تاہم سمندری آلودگی،تجارتی سرگرمیوں اورتفریحی عوامل کی وجہ سے یہ تعداد صرف 2رہ گئی،ان دواقسام میں سے اولیوریڈلی(زیتونی کچھوے)بھی ناپید ہوچکے ہیں۔
سن 2010کے بعد کوئی بھی زندہ زیتونی مادہ کچھواکراچی کے ساحلوں پرنہیں دیکھا گیا،البتہ مردہ حالت میں لہروں کے دوش پربہتے کنارے پرضرور رپورٹ ہوچکے ہیں،ماہرین حیوانات و ماحولیات اس بات پر متفکر ہیں کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر اولیو ریڈلی نے سینڈز پٹ سے منہ موڑ لیا۔
کچھ عوامل پر ماہرین متفق ہیں جن میں ساحل کی گندگی ،بے لگام ساحلی تعمیرات، مچھلی کے شکار کے دوران نقصان دہ جال کا دھڑلے سے استعمال،آوارہ کتوں اور چیل ،کوؤں کی بہتات ہے جس نے اولیو ریڈلی کا سرے سے ہی صفایا کردیا،کیونکہ اولیوریڈلی انتہائی حساس مزاج کاکچھوا ہےاور اپنے لیے ہر خطرے کو بہت جلد بھانپ لیتا ہے۔
سینڈز پٹ پر جابجا موجود کچرے کے ڈھیروں میں پلاسٹک کی تھیلیاں بڑی مقدار بھی موجود ہیں جوساحل کے کنارے مادہ کچھوے کے افزائش نسل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،کم وبیش ان ہی عوامل کی وجہ سے اب بچ جانے والی واحد نسل گرین ٹرٹل (سبزکچھوے)کی معدومیت کے بھی شدید خطرات پیداہوچکے ہیں۔
ساحلوں پربڑھتی تعمیرات کی وجہ سے کچھوؤں کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں،اسی وجہ سے مادہ کچھواگنجان آبادی والے ساحلوں پرانڈے دینے پرمجبورہے،ساحل پر بکھرے ماہی گیری جالوں کے ٹکڑے،پلاسٹک کی تھیلیاں اور کچرے کے ڈھیر جسے ساحل پر بنے درجنوں ہٹس پر تفریح کے لیے آنے والے،عارضی قیام کے بعد انتہائی لاپروائی سے ساحل پر پھینک دیتے ہیں،کچھوؤں کے بچوں کے موت کے شکنجے بن جاتے ہیں اورانڈوں سے نکل کر پانی میں جانے کے چکر میں ان شکنجہ نما جالوں اور کچرے کے ڈھیر میں پھنس کراکثراوقات آوارہ جانوروں کا لقمہ بن جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تفریح کے لیے ساحل پر آنے والوں کو،اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،اگر یہاں آنے والے افراد اس بات کو اپنی عادت بنالیں کہ وہ اپنے کھانے پینے کی اشیا سے بننے والا کچرا جاتے وقت ذمے داری سے اپنے ساتھ لے جاکر کسی صحیح جگہ پر ٹھکانے لگا دیں گے تو یقیناً اس عمل کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔
اس عمل سے بیک وقت آبی حیات اور ساحلی مقام کی خوبصورتی کو مزید کسی تباہی وبربادی سے بچایا جاسکتا ہے،جس دوران مادہ کچھوا گڑھا بنارہی ہوتی ہے تو اکثر پلاسٹک بیگ وغیرہ اس قدرتی عمل کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور کوشش کے باوجوداکثر وبیشتر وہ اپنے چیمبر نہیں بناپاتی اور واپس پانی میں چلی جاتی ہے،یہ بہت بڑا خطرہ ہے جن کی وجہ سے کچھوؤں کا قدرتی مسکن شدید متاثر ہورہاہے۔
اگر یہ مادہ کچھوا انڈے دینے میں کامیاب بھی ہوجائے توبھی ایک اور بھیانک خطرہ آوارہ کتوں کی شکل میں موجود ہے جو کچھوؤں کے افزائش نسل کے اس مقام پر انڈوں اور بچوں کو کھانے کے لیے دن رات گھوم رہے ہوتے ہیں،کیونکہ آوارہ کتوں کو دن بھر تفریح کے لیے آنے والے بچھا کچا کھانا ڈال دیتے ہیں اوردن بھر وافر مقدار میں ملنے والے کھانے کے بعد یہ آوارہ کتے اس بات سے بھی آگاہ ہوچکے ہیں کہ کچھوؤں کی افزائش کے مقام پربھی ان کے کھانے کے لیے کچھ موجود ہے۔
ریت میں دبے ان انڈوں کی بو کتے،نیولے اورسانپ باآسانی سونگھ لیتے ہیں،جو ان انڈوں کو کھاجاتے ہیں جبکہ ان انڈوں سے بچے نکلنے کے بعدبھی فضاؤں میں منڈلانے والے چیل اورکوؤں کی وجہ سے خطرے کی تلواران کےسرپرلٹکتی رہتی ہے۔
ایک اورہولناک خطرہ کسی عفریت کی طرح سمندرمیں لگے ماہی گیری کے جال ہیں،جن میں بچے پھنس جاتے ہیں جبکہ ان کے مسکن کے آس پاس سے گذرنے والی کشتیوں کے انجنوں کے بلیڈ یا توانھیں زخمی کردیتے ہیں یا پھر یہ ان لانچوں کے بلیڈ میں آکرمرجاتے ہیں،ماہرین کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھرمیں تین اقسام کے کچھوے پائے جاتے ہیں،جن میں سمندری،میٹھے پانی اورخشکی کے کچھوے شامل ہیں۔
سمندری کچھوؤں کی 7جبکہ میٹھے پانی کی 8اقسام پائی جاتی ہیں،اس کے علاوہ خشکی کی 2اقسام بھی موجود ہیں،میٹھے پانی کے کچھوؤں میں پنجوں اورناخنوں دونوں اقسام کے کچھوے ملتے ہیں،سمندری کچھوے اپنے بازوؤں کونہیں سمیٹ سکتے البتہ میٹھے پانی کے کچھوے اپنے بازو سمیٹ لیتے ہیں۔
کچھوا دنیا کا واحد جاندارہے،جس کو اپنے بچے دیکھنا نصیب نہیں ہوتے۔ مادہ کچھواانڈے دیکرواپس گہرے پانیوں میں لوٹ جاتی ہے،ماہرین کے مطابق کچھوؤں میں بھی انسانوں کی طرح جسمانی اپاہج اوراندھے بچے پیداہوتے ہیں،اوردیگرمعذوری کے شکاربچے بھی پیداہوتے ہیں،کچھوے کی اوسط عمر70سال کے لگ بھگ ہوتی ہے،مگریہ 100سال تک بھی جیتے ہیں،ماہرین کے مطابق یہ جاندارڈائنا سار کے دورسے کرہ ارض پرموجود ہیں،مادہ کچھوا ایک وقت میں 120سے170کی تعداد میں انڈے دیتی ہے،ان انڈوں کی ساخت ٹیبل ٹینس کی بڑی گیند جیسی ہوتی ہے۔
چینی اورکورین کچھوے کے گوشت کے علاوہ اس کے انڈوں کو بھی رغبت سے کھاتے ہیں،مادہ سبز کچھوا کراچی کے سینڈز پٹ،پیراڈائزپوائنٹ کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی مقامات جیوانی،گوادر،اورماڑہ پسنی،دھیران،فرنچ بیچ،مبارک ولیج اورکیپ ماونزے اورچرنا جزیرے پربھی افزائش نسل کے لیے رخ کرتی ہے،افزائش نسل کے دوران پہلے مرحلے میں مادہ کچھوا ساحل کی مٹی پرجگہ کے انتخاب کے بعد اپنی پچھلی ٹانگوں کی مدد سے پورے جسم کو مٹی سے ڈھانک لیتی ہے،پھرکھدائی شروع کردیتی ہے۔
اس دوران مادہ کچھوا تین سے ساڑھے تین فٹ گہراگڑھاکھودتی ہے،عموما انڈے دینے کا یہ عمل رات کے وقت ہوتا ہے،جب ہرجانب گہراسکوت ہوجاتا ہے،انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل 45سے60دن پرمحیط ہوتا ہے جبکہ افزائش نسل کا کل دورانیہ اگست کے وسط سے فروری کے وسط تک تقریبا 7ماہ تک جاری رہتا ہے،اس دوران اگربارش ہوجائے تویہ انڈے پانی لگنے کی وجہ سے خراب ہوجاتے ہیں۔
پاکستان ان 11ممالک میں شامل ہے،جہاں مادہ کچھواافزائش نسل کے لیے اس کے ساحلی مقامات کا رخ کرتی ہے،ان ممالک میں کینیڈا،جرمنی،اٹلی،اسٹریلیا،برطانیہ،سری لنکا،بھارت اوربنگلہ دیش شامل ہے، سائنسی اعتبار سے قدرت نے مادہ کچھوے کے دماغ میں ایک مقناطیسی سیال(Brain Magnetic Fluid)رکھا ہے،جس کے ذریعے مادہ کچھوا افزائش نسل کے لیے ٹھیک اس مقام تک پہنچ جاتی ہے،جہاں کا وہ خمیر ہوتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ عام طورپریہ کچھوےبحراوقیانوس،بحرالکاہل اوربحرہند کے گرم اورمعتدل ساحلوں کے قرب وجوار میں پائے جاتے ہیں،ان کو گرین ٹرٹل ان کی بیرونی رنگت کی وجہ سے نہیں بلکہ جسم میں پائی جانے والی سبزرنگ کی چربی کی وجہ سے کہا جاتا ہے، سندھ وائلڈ لائف ان کو ٹیگ کرتے ہیں،پاکستان کا کوڈ این ہے،کراچی کے ساحل پرٹیگ کیے جانے والے کچھوے بعدازاں ایران،بھارت اورمسقط کے ساحلوں پربھی پائے گئے ہیں۔
ان مادہ کچھووں کی ترجیح نرم ریت والی مٹی ہوتی ہے،جہاں یہ آسانی سے گڑھا بناکرانڈوں کو ریت میں گہرائی تک دباسکے،سمندری کچھووں کی زندگی حیرت انگیزحقائق سے بھری پڑی ہے،ان کچھووں کے بچے ایک بارانڈے سے نکل کر سمندرمیں چلے جائیں توپھرزندگی بھرلوٹ کرنہیں آتے،ماسوائے مادہ کچھوے کے جو اپنی 70سالہ اوسط عمرمیں 10سے15دفعہ اسی ساحل کا رخ کرتی ہے،جہاں سے اس نے اپنی زندگی کا سفرشروع کیا ہوتا ہے،ایک دلچسپ حقیت یہ بھی ہے کہ جس وقت سمندری کچھوے کے بچے انڈوں میں بن رہے ہوتے ہیں،اس دوران اگرریت کا درجہ حرارت 27ڈگری سے زیادہ ہوتو مادہ کچھوے کی تولید ہوتی ہے جبکہ 27ڈگری سے کم پرنرکچھوا وجود میں آتا ہے۔
محکمہ سندھ وائلڈ لائف نے ان مادہ کچھووں کی افزائش نسل کے لیے ہاکس بے ٹرٹل بیچ پرخصوصی اقدامات کررکھے ہیں،ایک بڑے احاطے میں ان کے انڈوں کے گھونسلوں کو گول آہنی گرل سے محفوظ کیاہے،اس ہیچری میں انڈوں سے بچے نکلنے کے تولید کے مراحل طے ہوتے ہیں،آفیسرسندھ وائلڈ لائف اشفاق میمن کے مطابق کراچی کے ساحل پرمادہ کچھووں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے،رواں سال ستمبرسے اب تک 25ہزارانڈوں کوتولیدگی کے عمل کے لیے محفوظ کیا جاچکا ہے،جس سے نکلنے والے ساڑھے دس ہزاربچوں کورواں سال سمندرمیں چھوڑا جاچکا ہے،اشفاق میمن کا کہنا ہے کہ ابھی فروری کے وسط تک افزائش نسل کا سلسلہ برقراررہے گا،فروری میں رپورٹ ہونے والی مادہ کچھووں کے انڈوں سے بچے اپریل میں نکلے گے،جس کے بعد حتمی اعدادوشمارکی رپورٹ مرتب کیے جاسکے گے،ان کا کہنا ہے کہ ایک قوی امید ہے کہ اس سال 30ہزاربچوں کا ہدف پوراہوجائےگا۔
سن 1975سے اب تک 9لاکھ کے لگ بھگ کچھووں کے بچے سمندرمیں چھوڑے جاچکے ہیں،سندھ وائلڈ لائف کے رضا کارغروب آفتاب کے بعد ساحل پرگشت شروع کردیتے ہیں،جس وقت مادہ کچھوا انڈے دیکرسمندرمیں لوٹ جاتی ہے،تو گارڈز ان گڑھوں سے انڈے نکال کرسندھ وائلڈ لائف کی ہیچری میں لے جاتے ہیں،جہاں کے محفوظ احاطے میں ان انڈوں کو دوبارہ گہرے گڑھوں میں دبادیا جاتاہے،اور ہر گھونسلے کا باقاعدہ ریکارڈ رکھاجاتاہے،40سے60دنوں میں انڈوں سے بچے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں،جنھیں گارڈزسمندری لہروں کے حوالے کردیتے ہیں،جس کے بعد ان کی ذمہ داری ختم اورقدرت کا قانون شروع ہوجاتا ہے،آئی یوسی این کی ایک تحقیق کے مطابق انڈوں سے بحفاظت نکلنے والے کچھووں کی بقا کا تناسب اعشاریہ ایک فیصد ہے،یعنی ایک ہزاربچوں میں سے کوئی ایک زندہ بچ پاتا ہے۔
یہی وہ نقطہ فکرہے،جس کی وجہ سے عالمی ادارے اورسندھ وائلڈ لائف ان بچوں کی بقا کے لیے مسلسل سرگرداں ہیں،ماہرین کے مطابق کچھوے سمندر کی گہری تہہ میں ایک ایسے کردارکے حامل ہیں،جس پرسمندر کی پوری دنیا کی سلامتی کا دارومدارہے،ان کچھوؤں کی خوراک تہہ آب اگنے والی سمندری گھاس ہے،جس کو یہ اپنی خوراک کے ذریعے ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیتے،اگرکچھوے اس گھانس کو کھانا چھوڑدیں تواس گھانس کی بلندی کی وجہ سے سمندرمیں شدید گھٹن پیداہوسکتی ہے۔

Hawke’s Bay Karachi’s beach has become a death knell for green turtles Urdu Media

KARACHI: The coast of Hawke’s Bay has become a death knell for green turtles, as the nesting sites of the turtles are disappearing due to increasing construction on the beaches.
Female turtles are forced to nest on densely populated beaches, dance parties to entertainment hits, loud music, the glare of electric kettles, beach-front ferret recruits have destroyed the breeding grounds of green turtles, stray dogs and crows on the beach are also a threat to turtles. Monsters are proving.
Due to beach pollution and various other threats, olive ridley (olive turtles) have disappeared from the beaches of Karachi, the only remaining species of green turtles (green turtles) are facing serious threats to their survival.
Due to the natural magnetic fluid in the brain, female turtles return to their breeding grounds 10 to 15 times in their average lifespan of 70 years.
The turtle is the only living thing on the planet, which is not lucky to see its babies.
Hawke’s Bay’s beaches, including Sandpit and Paradise Point, are becoming a monster for aquatic life, with the construction of a large number of beach resorts in the recent and distant past taking away the natural habitat of these turtles.
At night in these huts, dance parties, loud music, loud noises, electric kettles and the indiscriminate use of spot and floodlights causing glare are proving to be the death knell for these female turtles.
Desert safaris (motorbikes), horse-riding, and expensive phrate recruits during private gatherings are free and moving freely along the coast, which has brought the natural habitat of turtles to the brink of destruction.
According to Shah Mirbaloch, a local volunteer who works for the survival of these turtles, these mischievous noblemen, when intoxicated, start threatening serious consequences if prohibited, and sometimes do not refrain from extreme measures during aggressive behavior. .
A great threat to the eggs and hatchlings of female green turtles are stray dogs roaming the beach and crows hovering in the skies, which eat the young eggs and hatchlings.
Two decades ago, seven species of sea turtles were found in the coastal areas of Sindh and Baluchistan, however, due to sea pollution, commercial activities and recreational factors, this number has reduced to only two.
Since 2010, no live olive-green turtles have been seen on Karachi’s beaches, although dead ones have been reported on the surf shore. turned away from Sands Pit.
Some of the factors experts agree on include beach pollution, rampant coastal construction, rampant use of harmful nets during fishing, stray dogs and an abundance of eagles and crows that wiped out Olive Ridley. Because Oliver Ridley has a very sensitive temperament and senses any danger to himself very quickly.
There are also large quantities of plastic bags in the garbage piles at the Sandspit, which are a major obstacle to the breeding of female turtles on the beach, more or less due to the same factors, the only surviving species of green turtles. ) have also faced serious threats of extinction.
Due to the increased construction on the beaches, the places where the turtles lay their eggs are disappearing, therefore the female turtles are forced to lay their eggs on the densely populated beaches, pieces of fishing nets scattered on the beach, plastic bags and piles of garbage that have formed on the beach dozens of times. Recreational visitors to the huts, after a temporary stay, are carelessly dumped on the beach, becoming death traps for baby turtles and hatching into the water in these trap-like nets and piles of garbage. Trapped, they often become prey for stray animals.
Experts say that beachgoers need to change their behavior if they make it a habit to dispose of their food waste responsibly. If you take it with you and put it in a proper place, surely this process will have far-reaching results.
With this process, the aquatic life and the beauty of the coastal area can be saved from any further destruction and destruction, during which the female turtle is making a hole, often plastic bags etc. get in the way of this natural process and despite the effort, they often end up on their own. Can’t make the chamber and goes back into the water, this is a big danger due to which the natural habitat of the turtles is getting affected.
Even if this female turtle succeeds in laying eggs, there is another dire threat in the form of stray dogs that roam around the turtle breeding grounds day and night to eat the eggs and hatchlings. The cubs who come for fun throw in raw food and after a day of abundant food, these stray dogs have become aware that there is something for them to eat even at the turtle breeding ground.
The smell of these eggs buried in the sand is easily smelled by dogs, nymphs and snakes, who eat these eggs, while even after hatching from these eggs, the swords of danger remain hanging on the heads of eagles and crows hovering in the air.
Another dire threat is the monster-like fishing nets in the sea, in which children become entangled while the blades of boats’ engines pass by their habitat.

Share this Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *