[t4b-ticker]
Home قومی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس التوا کا شکار

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس التوا کا شکار

by imran

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں شامل اپوزیشن ارکان نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کمیٹی کا اجلاس بلانے کا کہا ہے جو کئی ہفتوں سے التوا کا شکار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے 6 اراکینِ قومی اسمبلی نے دستخط کیے۔

انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود انتہائی ضروری اجلاس اب تک نہیں ہو سکا۔

اتفاق سے کمیٹی کے چیئرمین میاں جاوید لطیف کا تعلق بھی مسلم لیگ (ن) سے ہے اور انہوں نے بھی ریکوزیشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔

اس ضمن میں درخواست پر دستخط کرنے والوں میں سے مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن سعد وسیم نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس وزارت اطلاعات کےاشتراک سے منعقد ہوتے ہیں لیکن وزیر اطلاعات ایجنڈے کے آئٹم نمبر 6 اور 7 میں اس بنیاد پر ترمیم کرنے پر بضد ہیں کہ یہ معاملات زیر سماعت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اطلاعات کمیٹی کے اجلاس میں تاخیر کر رہے ہیں اور وہ اجلاس کے لیے وقت اور جگہ بھی نہیں دے رہے ہیں۔

اجلاس کا ایجنڈا آئٹم 6 ‘الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والے معاملے پر بحث کرنا شامل ہے اور قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے سابق چیف جج گلگت بلتستان کے دستخط شدہ حلف نامے کے دعووں کے بارے میں گزشتہ اجلاس میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایجنڈا آئٹم 7 ‘سابق چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر ثاقب نثار کے بارے میں احمد نورانی کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ آڈیو کے معاملے پر بات کرنا ہے’۔

دیگر ایجنڈا آئٹمز میں سابق سینئر صحافی ابصار عالم پر قتل کی کوشش، صحافی اسد طور پر حملہ اور سینئر صحافیوں حامد میر اور عاصمہ شیرازی کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج شامل ہے۔

ایک اور ایجنڈا آئٹم کالم نگار اور ٹی وی نیوز تجزیہ کار حسن نثار سے متعلق ہے جنہوں نے پی ٹی وی پر بیان دیا تھا کہ جمہوریت کا نام لینے والوں کو گولی مار دی جائے اور گولی کی قیمت ان کے اہل خانہ سے وصول کی جائے۔

ریکوزیشن پر میاں جاوید لطیف، سعد وسیم، رانا ارادت شریف، ندیم عباس، مائزہ حمید اور ناز بلوچ نے دستخط کیے ہیں۔

قومی اسمبلی 2007 کے قواعد و ضوابط کے رول 225 (4) کے تحت دی گئی ریکوزیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے چیئرپرسن کو ریکوزیشن دائر کرنے کے 14 دن کے اندر کمیٹی کا اجلاس بلانا ہوگا۔

قبل ازیں کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نے 29 دسمبر 2021 کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں بلایا تھا لیکن وزارت اطلاعات نے اس کی اجازت نہیں دی۔

جس کے نتیجے میں چیئرمین نے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر کے باہر سڑک پر اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے غیر مہذب رویے کے خلاف احتجاج کیا۔

میاں جاوید لطیف نے کہا کہ کمیٹی نے اہم ایشوز پر کئی اجلاس کیے لیکن وزیر نے کبھی اجلاسوں میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی وہ سنگین خدشات کے معاملے پر رابطے کے لیے وقت دے رہے ہیں۔

آپ بھی پسند کر سکتے ہیں۔