سیریل کلر ’جاوید اقبال’ کی زندگی پر بنی فلم پر پنجاب میں پابندی

imran
imran 27 جنوری, 2022
Updated 2022/01/27 at 11:59 صبح
61f2843034631
61f2843034631

حکومت پنجاب نے سیریل کلر ’جاوید اقبال’ کی زندگی پر بنائی گئی ہارر تھرلر فلم ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ پر ریلیز سے دو دن قبل اس کی نمائش پر پابندی عائد کردی۔

’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کو کل پنجاب سمیت ملک بھر میں ریلیز کیا جانا تھا مگر اب اسے پنجاب میں پیش نہیں کیا جا سکے گا۔

شوبز ویب سائٹ ’پاکستانی سینما’ کے مطابق حکومت پنجاب نے یاسر حسین اور عائشہ عمر کی فلم کو پہلے کلیئر قرار دیا تھا مگر بعد ازاں 26 جنوری کو اس کی نمائش روکنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔

حکومت پنجاب کے محکمہ انفارمیشن ایند کلچر کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق فلم کی کہانی کے بجائے اس کے ٹائٹل کے حوالے سے لوگوں نے شکایت کی ہیں، جس وجہ سے فلم کو دوسرے احکامات تک ریلیز نہیں کیا جا سکے گا۔

فلم کی نمائش روکے جانے کے حوالے سے یاسر حسین نے بھی انسٹاگرام اسٹوریز شیئر کیں—اسکرین شاٹ
فلم کی نمائش روکے جانے کے حوالے سے یاسر حسین نے بھی انسٹاگرام اسٹوریز شیئر کیں—اسکرین شاٹ

 

حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں بتایا گیا کہ صوبائی فلم سینسر بورڈ کو متعدد شکایات موصول ہوئیں، جس وجہ سے فلم کی نمائش پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔

صوبائی حکومت نے احکامات جاری کیے کہ سینسر بورڈ کی جانب دوسرے حکم نامے جاری کیے جانے تک فلم کو نمائش کے لیے پیش نہ کیا جائے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے فلم کی نمائش پر پابندی لگانے کے حوالے سے اداکار یاسر حسین نے بھی انسٹاگرام اسٹوریز میں خبریں شیئر کیں۔

علاوہ ازیں فلم کے ہدایت کار ابو علیحہ اور پروڈیوسر جاوید احمد کاکیپوٹو نے بھی فلم کی نمائش پر پابندی عائد کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔

 

’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ پر پابندی عائد کیے جانے پر ہدایت کار ابو علیحہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ’پاکستانی سینما‘ نامی شوبز ویب سائٹ کو بتایا کہ مذکورہ فلم کی کہانی ان کی کتاب سے ماخوذ ہے جب کہ کتاب پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر سینسر بورڈ نے فلم کی نمائش کی اجازت نہ دی تو صوبائی حکومت کے خلاف ہائی کورٹ میں درخوست دائر کروائی جائے گی۔

مذکورہ فلم کو 28 جنوری کو پاکستان بھر میں پیش کیا جائے گا اور اس کا پریمیئر 26 جنوری کو کراچی کے نیو پلیکس سینما میں منعقد کیا گیا تھا۔

 

فلم کی کہانی پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بدنام سیریل کلر ’جاوید اقبال مغل‘ کے جرائم اور ان کے قانونی ٹرائل کے گرد گھومتی ہے۔

جاوید اقبال مغل‘ 100 بچوں کے قتل اور ان کے ’ریپ‘کا مجرم تھا۔

1999 میں جاوید اقبال نے پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا جن کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں، اس نے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس نے زیادہ تر بچوں بچوں کو گلا گھونٹ کر مارا اور ان کے جسم کے کئی ٹکڑے بھی کیے۔

جاوید اقبال مغل نے 2001 اکتوبر میں لاہور کی جیل میں خودکشی کرلی تھی۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort