تفتیشی افسر نے کیس کا عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا | اردو میڈیا

admin
admin 7 مئی, 2022
Updated 2022/05/07 at 11:39 صبح
285058 043704 updates
285058 043704 updates

فوٹو: فائلکراچی میں دعا زہرہ کے مبینہ اغواء سے متعلق مقدمے کی سماعت پر تفتیشی افسر نے کیس کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں جمع کرادیا۔چالان میں ملزم ظہیر احمد،نکاح خواں غلام مصطفیٰ اور دو گواہ شہزاد اور اصغر علی کو مفرور قراردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمے میں کم عمری کی شادی اور سہولت کاری اور  سندھ چائلڈ ریسٹرنٹ میرج ایکٹ کی دفعات شامل ہیں جبکہ چالان میں کہا گیا ہے کہ دعا زہرہ کی تلاش کے لیے متعلقہ علاقے کی سی سی ٹی وی وڈیو حاصل کی گئی اور مدعی مقدمہ اور خاندان کے زیر استعمال تین موبائل فون کا سی ڈی آر لیا گیا۔چالان کے متن کے مطابق موبائل فونز کے سی ڈی آر سے کوئی مفید معلومات نہیں ملی اور نی ہی مختلف اداروں سے لی گئی معاونت میں کامیابی حاصل  ہوئی۔ چالان کے متن میں کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹ سے معلوم ہوا کہ دعا نے لاہور میں ظہیر سے شادی کر لی ہے اور نکاح نامہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔اس کے علاوہ چالان میں کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور کے حکم پردعا کا بیان ریکارڈ کیاگیا،جس میں انہوں  نے اغوا کی تردید اور مرضی سے 17 اپریل کو شادی کی تصدیق کی جبکہ کراچی جانے سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔اس کے علاوہ چلان میں کہا گیا ہے کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق دعا کی عمر 14 برس ہے، ظہیر نے اس کو بہلا پھسلا کر زیادتی کی ہے۔دوسری جانب  تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ دعا زہرہ کا میڈیکل کرانا ہے اس لیے حتمی چالان کے لیے 15 دن کی مہلت دی جائے۔واضح رہے کہ کراچی سے لاپتا ہوکر پاکپتن سے ملنے والی دعا زہرہ کے والد نے بیٹی کی بازیابی کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رجو ع کیا تھا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort