سری لنکا: وزیر اعظم کے سامنے آنے پر عوام کا شدید ردعمل

imran
imran 9 مئی, 2022
Updated 2022/05/09 at 7:34 صبح
6277ade8d6628
6277ade8d6628

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجاپکسے کو اس وقت بوکھلاہٹ کا سامنا کرنا پڑا جب ملک میں سنگین معاشی بدحالی پر عوام کے احتجاج اور ان کے حکمراں خاندان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد وہ پہلی عوامی سطح پر سامنے آئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق جنوبی ایشیا کے اس ملک میں مہینوں سے بلیک آؤٹ، خوراک، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت نے بڑے پیمانے پر مسائل کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے ملک اب تک کی اپنی بدتر معاشی بدحالی کا شکار ہے۔

اتوار کی روز سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپکسے کے بھائی و وزیر اعظم مہندا راجاپکسے کو انورادھاپورا میں بدھ مت کے مقدس مندروں میں سے ایک کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو 23 صدی پرانے ایک درخت کا گھر مانا جاتا ہے۔

کولمبو سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم مقدس شہر میں جب وزیر اعظم پہنچے تو سیکڑوں مرد اور خواتین ہاتھوں سے لکھے گئے پلے کارڈز اپنے ساتھ لائے اور وزیر اعظم کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ ’چوروں‘ کو مقدس شہر میں داخل ہونے سے روکا جائے۔

 

مظاہرین میں موجود ایک آدمی نے نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’ہم آپ کی عبادت کریں گے اگر آپ بطور وزیر اعظم عہدہ چھوڑ دیں اور چلے جائیں‘۔

وزیر اعظم کے دورے کے وقت اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے کمانڈوز کی بھاری تعداد وہاں تعینات کردی گئی تھی جبکہ پولیس کی بھاری نفری وزیر اعظم کی چھ گاڑیوں کے قافلے کو راستہ دینے کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔

ملک میں کھانا پکانے کے لیے گیس کی قلت، ایندھن کی کمی اور ڈیزل کی عدم موجودگی کے خلاف عوام نے ملک کی اہم سڑکوں کو احتجاج کرکے بند کردیا ہے۔

وزارت دفاع نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ مظاہرین اشتعال انگیزی اور دھمکیوں والا برتاؤ اختیار کر رہے ہیں اور ضروری خدمات میں خلل ڈال رہے ہیں۔

حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے فوج کو جمعہ کے روز لوگوں کو گرفتار کرنے اور حراست میں لینے کے اختیارات دے دیے، جب ٹریڈ یونینوں نے صدر گوٹابایا راجاپکسے کو استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش میں ملک کو ایک مجازی تعطل پر پہنچا دیا۔

ملک کے ہزاروں عوام کے طرف سے 31 مارچ کو کولمبو میں صدر کی ذاتی رہائش گاہ پر دھاوا بولنے کے بعد کبھی ان کو عوام میں نہیں دیکھا گیا۔

تاہم 9 اپریل سے ہزاروں افراد کولمبو میں ان کے دفتر کے باہر کیمپ قائم کرکے بیٹھے ہیں۔

الہٰی مداخلت

مہندا راجاپکسے کا انورادھاپورہ کا دورہ حکمراں خاندان کی مذہبی سرگرمیوں کا ایک حصہ ہے کیونکہ یہ بدھ مت اکثریتی ملک میں اقتدار پر قابض ہے۔

مقامی میڈیا نے اطلاع دی کہ صدر کے ذاتی پادری گنانا اکا نے بوتل میں بند پانی روایتی انداز میں پھونکا اور اسے احتجاجی مقام پر اس امید سے پہنچایا کہ تحریک ختم ہو جائے گی۔

ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کی اہلیہ شرانتھی، جو مسیحی ہیں، نے ایک ہندو مندر کا دورہ کیا اور اپنے خاندان کے اقتدار میں رہنے کی کوشش کے لیے الہٰی مدد حاصل کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر، سری لنکا کو بحران سے نکالنے کے لیے متحدہ حکومت کے لیے راستہ صاف کرنے کی کوشش میں اپنے بھائی مہندا سے دستبردار ہونے کو کہہ سکتے ہیں۔

تاہم ملک کے سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نے پہلے ہی یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی حکومت کا حصہ نہیں بن سکتی جس میں راجاپکسے خاندان کا کوئی بھی رکن شامل ہو۔

یاد رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے بعد سری لنکا کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے کیونکہ سیاحت اور ترسیلات سے آنے والی آمدنی ختم ہونے سے اس کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔

اپریل میں ملک نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ 51 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے ادا کرنے سے قاصر ہے۔

سری لنکا کے وزیر خزانہ علی صابری نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ملک کو دو سے زائد برسوں تک بے مثال معاشی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort