وزیراعظم شہباز شریف کا این سی او سی فوری بحال کرنے کا حکم

imran
imran 10 مئی, 2022
Updated 2022/05/10 at 7:59 صبح
627a13c6f26c3
627a13c6f26c3

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں کورونا وائرس کے نئے اومیکرون ویرینٹ کا پہلا کیس سامنے آمنے کا نوٹس لے لیا ہے اور فوری طور پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو بحال کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

وزیراعظم نے وزارت برائے قومی صحت سے اومیکرون ویرینٹ کے نئے سب ویرینٹ کے حوالے سے موجودہ صورتحال سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی ادارہ صحت نے ملک میں کورونا وائرس کے ویرینٹ ’اومیکرون‘ کے نئے سب ویرینٹ کے پہلے کیس کی تصدیق کی تھی۔

 

یاد رہے کہ حکومت نے ملک میں کووڈ-19 کے کیسز میں تیزی سے کمی اور بڑی آبادی کی کامیاب ویکسی نیشن کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو31 مارچ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں کووڈ کے کیسز اور ویکسی نیشن کی شرح کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم نے اس وبا کے ساتھ زندگی گزارنے کا نارمل طریقہ کار اپنانا ہے اور ایمرجنسی میں بنائے گئے اس ادارے کو بند کرنے کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے پوری قوم کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ ویکسی نیشن کی شرح بہت اچھی سطح تک پہنچ چکی ہے اور وبا کا پھیلاؤ بھی کم ہو گیا ہے، لہٰذا آج این سی او سی کے آپریشن کا آخری دن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں گزشتہ دو سال میں جو کامیابی حاصل ہوئی اس کی دنیا کے بڑے بڑے اداروں اور شخصیات نے اس پر پاکستان کی تعریف اور پذیرائی کی۔

اسد عمر نے اس حوالے سے علما، میڈیا اور ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت وزارت صحت اور اس سے متعلقہ شعبوں کے کردار کو بھی سراہا تھا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ این سی او سی کی ذمے داری وزارت صحت کو ملنے کے بعد میں ان تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کے ساتھ مجھے کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی مربوط طریقہ کار تھا جس نے پاکستان میں کووڈ 19 کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے قبل اسد عمر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‏آج این سی او سی آپریشن کا آخری روز ہے، اس وقت کورونا کے کیسز انتہائی کم اور ویکسی نیشن سب سے زیادہ ہے لہٰذا اب ذمہ داری وزارت صحت کو دی جا رہی ہے۔

این سی او سی کا قیام

این سی او سی کا قیام 27 مارچ 2020 کو عمل میں آیا تھا اور قوم کو کورونا وائرس کے اعداد و شمار سے آگاہ رکھنے میں اس نے اہم کردار ادا کیا۔

این سی او سی میں روزانہ اجلاس ہوتا تھا جس میں وفاقی وزیر برائے ترقی، منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات اسد عمر، معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان اور نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل محمد ظفر اقبال شرکت کرتے تھے۔

مزید براں اس میں تمام صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی نمائندگی بھی تھی۔

این سی او سی کی جانب سے ہر 8 گھنٹے میں اعداد و شمار جاری کیے جاتے تھے اور دن میں کم از کم ایک مرتبہ انہیں اپ ڈیٹ کیا جاتا تھا۔

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس فروری 2020 کے آخری ہفتے میں رپورٹ ہوا تھا۔

اس بحران پر تبادلہ خیال کے لیے فوجی اور سول اعلیٰ قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا پہلا اجلاس 13 مارچ کو ہوا تھا، جسے بعد ازاں ڈبلیو ایچ او نے عالمی وبا قرار دیا تھا۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت این ایس سی کے اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی تھی کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے۔

تاہم ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان 16 مارچ 2020 کو کیا گیا تھا جس کے بعد تعمیراتی صنعت، تعلیمی اداروں، ریسٹورنٹس، شادی ہال سمیت متعدد کاروبار بند کردیے گئے تھے۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort