دریائے سندھ میں پانی کا بحران،کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا | اردو میڈیا

admin
admin 11 مئی, 2022
Updated 2022/05/11 at 2:39 شام
285394 072801 updates
285394 072801 updates

فوٹو: پی پی آئیدریائے سندھ میں پانی کی کمی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس کے باعث صوبہ سندھ میں کاشت کاروں کا شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی جانب سے 82 ہزارکیوسک پانی چھوڑا گیا تھا تاہم تین دن میں سکھربیراج میں صرف 41 سوکیوسک پانی پہنچا۔سندھ میں پانی کی کمی 52 فیصد سے بڑھ کر  62 فیصد ہوگئی ہے، سکھر بیراج پر پانی کی کمی 45 فیصد سے 53 فیصد ہوگئی ہے۔ انچارج کنٹرول روم سکھربیراج کا کہنا ہےکہ پانی کی گڈو بیراج میں تاخیر سے آمدکا پتا لگا رہے ہیں۔ دوسری جانب بدین میں پانی کی قلت کے خلاف آج بھی احتجاج کیا گیا، ٹنڈو الٰہ یار میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث چھوٹےکاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے، لیموں کے باغات سوکھ گئے ہیں جب کہ دیگر فصلیں بھی خطرے میں ہیں۔ سکھر بیراج سے نکلنے والی روہڑی اور ناراکینال میں 50 فیصد پانی کم چھوڑنےکے باعث ٹیل کے آبادگار متاثر ہو رہے ہیں۔حیدرآباد، ٹھٹہ، سجاول اور بدین سمیت مختلف علاقوں میں کھڑی فصلوں خصوصاً کپاس کو نقصان ہو رہا ہے، کپاس کی فصل 35 سے 40 فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے۔سانگھڑ میں 50 سے 60 جب کہ پچھلی شاخوں ٹیل میں 80 فیصد تک پانی کی کمی ہے، سانگھڑ میں 3 میں سے ایک لاکھ ایکڑ پر کپاس کاشت نہیں ہوسکی ہے۔کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ فصلوں کو نہری پانی کی فراہمی کو یقینی بناکر فصلوں کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort