بیوی سے جبری مباشرت غیرقانونی ہے یا نہیں؟ بھارتی عدالت فیصلہ نہ کر سکی | اردو میڈیا

admin
admin 11 مئی, 2022
Updated 2022/05/11 at 4:26 شام
285398 092851 updates
285398 092851 updates

فوٹو:فائلبھارتی عدالت  بیوی سے جبری مباشرت (میریٹل ریپ) غیر قانونی ہونے یا نہ ہونے پر ایک فیصلہ نہیں کرسکی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنےکو غیر قانونی قرار دینےکےکیس میں دہلی ہائی کورٹ کے 2 جج ایک فیصلے پر متفق نہیں ہوسکے اور  دونوں نے الگ الگ  فیصلہ دیا جس کے بعد اب امکان ہےکہ سپریم کورٹ میں اپیل دائرکی جائےگی۔رپورٹ کے مطابق دو رکنی بینچ میں سے ایک جج  نے میریٹل ریپ کو خلاف قانون قرار دینے کے حق میں فیصلہ دیا اور برطانوی دور کے قانون میں دیےگئے استثنیٰ کو مسترد کردیا جس کے تحت مرد پر بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے پر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔جسٹس راجیو شکدھر نے فیصلے میں کہا کہ کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی تعلقات کے لیے ریپ کے جرم سے چھوٹ دینا آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے، اس لیے یہ غیر آئینی ہے۔جب کہ دوسرے جج جسٹس ہری شنکر نے جسٹس راجیو کے فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا کہ میریٹل ریپ کے قانون میں مرد کو دیا گیا استثنیٰ آئین کے خلاف نہیں اور یہ ‘معقول’ ہے۔خیال رہےکہ بھارت میں 1860ء سے موجود تعزیرات ہندکی دفعہ 375 کے تحت ‘کسی مرد کی جانب سے اپنی ‘بالغ ‘بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا ریپ نہیں ہے’۔برطانوی میڈیا کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کا حکم بھارت میں حقوق نسواں کے حامیوں کےلیےکسی دھچکے سےکم نہیں جو برطانوی دور سے موجود اس قانون کی تبدیلی کےلیے مہم چلارہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اب تک 100 سے زائد ممالک  میریٹل ریپ کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں جن میں برطانیہ بھی شامل ہے۔2017 میں ایک کیس میں بھارتی حکومت کی جانب سے عدالت میں حلف نامہ جمع کرایا گیا تھا جس میں مؤقف اختیارکیا گیا تھا کہ میریٹل ریپ کو جرم قرار دینے سے شادی کا ادارہ غیر مستحکم ہوسکتا ہے۔بھارتی حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس چیز کو ایک بیوی میریٹل ریپ سمجھتی ہے وہ  دوسروں پر ظاہر نہیں ہوسکتی، اس معاملے میں استثنیٰ ختم کرنے سے بیویوں کو اپنے شوہروں کو ہراساں کرنے کا آسان ذریعہ مل سکتا ہے۔تاہم رواں سال جنوری میں بھارتی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ میریٹل ریپ کو جرم قرار دینےکے معاملے پر مشاورت کی جارہی ہے۔بھارت کی مذہبی تنظیموں اور حقوق مرداں کی تنظیموں کی جانب سے بھی عدالت میں دائر درخواست کی مخالفت کی گئی ہے، ان کا کہنا ہےکہ نیا قانون مردوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort