امیتابھ اور سری دیوی کی والدہ نے پروڈیوسر کو قتل کی دھمکیاں کیوں دی تھیں؟ | اردو میڈیا

admin
admin 11 مئی, 2022
Updated 2022/05/11 at 5:36 شام
285404 103550 updates
285404 103550 updates

1992 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں امیتابھ بچن اور اداکارہ سری دیوی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جسے مداحوں کی جانب سے کافی پسند بھی کیا گیا تھا۔فوٹو: فائلبھارت کی مقبول فلم’خدا گواہ’ کو گزشہ دنوں ریلیز ہوئے 30 سال مکمل ہوگئے۔1992 میں ریلیز ہونے والی فلم’خدا گواہ’ میں امیتابھ بچن اور اداکارہ سری دیوی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جسے مداحوں کی جانب سے کافی پسند بھی کیا گیا تھا۔اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ یہ بالی وڈ کی ان چند فلموں میں ہے جس کی شوٹنگ افغانستان میں کی گئی تھی ۔رپورٹس کے مطابق جس وقت خدا گواہ کی شوٹنگ جاری تھی اس وقت افغانستان کے حالات کافی خراب تھے۔فلم خدا گواہ کے پروڈیوسر منوج دیسائی نے گزشتہ دنوں اس فلم کے حوالے سے حیران کن انکشافات  کیے، ان کا کہنا تھا کہ اداکاروں کے اہل خانہ فلم کی شوٹنگ کی وجہ سے کافی پریشان تھے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق منوج دیسائی نے کہا کہ اداکاوں کے والدین اپنے بچوں کو تنازعہ والے علاقے افغانستان میں بھیجنے سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ انہوں نے  مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔منوج دیسائی نے کہا کہ امیتابھ بچن کی والدہ تیجی بچن جی نے مجھے خبردار کیا تھا کہ ‘اگر میرے بیٹے کو کچھ بھی ہوتا ہے اور  میری بہو جیا نے  سفید ساڑی پہنی ، تو تمہاری  بیوی کلپنا بھی تمہارے مرنے کی سفید ساڑی پہنے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ یہی نہیں بلکہ  سری دیوی کی والدہ نے بھی مجھے خبردار کیا کہ ’منوج  اگر سری کو کچھ ہوا، تو کابل سے واپس مت آنا، میں تمہارا خون کروا دوں گی’۔ منوج دیسائی نے کہا کہ شکر ہے کہ شوٹنگ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے مکمل ہوئی، افغانستان کے اس وقت کے صدر محمد نجیب اللہ نے ان کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی انہوں نے خدا گواہ کی کاسٹ اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کی تھی۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort