وزیر دفاع خواجہ آصف نے نومبر میں عام انتخابات کے اپنے بیان کی وضاحت کردی | اردو میڈیا

admin
admin 11 مئی, 2022
Updated 2022/05/11 at 5:33 شام
285406 102945 updates
285406 102945 updates

بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، میری اور آصف زرداری کی رائے میں کوئی فرق نہیں کہ نیب اور انتخابی اصلاحات سے پہلے انتخابات نہیں ہونے چاہئیں، وزیر دفاع— فوٹو: فائلوزیر دفاع خواجہ آصف نے نومبر میں عام انتخابات کے اپنے بیان کی وضاحت کردی۔خواجہ آصف نے کہا کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، ان کی اور آصف زرداری کی رائے میں کوئی فرق نہیں کہ نیب اور انتخابی اصلاحات سے پہلے انتخابات نہیں ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں میں اصلاحات کو لے کر کوئی اختلاف نہیں۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں خواجہ آصف نے کہا کہ انٹرویو میں ان سے نومبر میں آرمی چیف کی تعیناتی کا سوال پوچھا گیا تھا  جس کا جواب انہوں نے دیا کہ اُس وقت جو حکومت ہوگی وہ یہ تعیناتی کرے گی۔ خیال رہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں خواجہ آصف سے منسوب بیان سامنے آیا تھا کہ آرمی چیف کی تبدیلی سے پہلے نومبر میں عام انتخابات کا امکان ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے آرمی چیف کیلئے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے نام پر غور سے انکار نہیں کیا  اور کہا کہ وہ نام سینیارٹی لسٹ میں ہوا تو بالکل غور ہوگا، فوج اگر فیض حمید کا نام بھیجے تو وزیر اعظم کے پاس یہ کہنے کی گنجائش نہیں کہ 5 کے بجائے 3 یا 8 نام بھیجیں،  وزیراعظم کی یہ صوابدید ہے کہ فوج کے بھیجے ناموں میں سے ہی کس کو منتخب کرے۔خواجہ آصف کا مکمل انٹرویو یہاں پڑھیںخواجہ آصف نے انٹرویو میں مزید کہا تھا کہ عمران خان اگلے آرمی چیف کے معاملے پر ذاتی مرضی چاہتے تھے تاکہ ان کے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تسلسل کا تحفظ یقینی ہوسکے۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort