پشاور کورکمانڈر کے حوالے سے سینئر سیاست دانوں کے بیانات انتہائی نامناسب ہیں، آئی ایس پی آر

imran
imran 13 مئی, 2022
Updated 2022/05/13 at 6:54 صبح
627d156027b4c
627d156027b4c

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ کورکمانڈر پشاور کے حوالے سے اہم سینئر سیاست دانوں کے بیانات ‘انتہائی نامناسب’ ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘پشاور کور پاکستان آرمی کی ایک ممتاز فارمیشن ہے، پشاور کور دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘اس اہم کور کی قیادت ہمیشہ بہترین پروفیشنل ہاتھوں میں سونپی گئی ہے، پشاور کور کمانڈر کے حوالے سے اہم سینئر سیاستدانوں کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں’۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘ایسے بیانات فوج اور قیادت کے مورال اور وقار پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘افواج پاکستان کے بہادر سپاہی اور افسران ہمہ وقت وطن کی خود مختاری اور سالمیت کی حفاظت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رہے ہیں’۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا تھا کہ ‘سینئر قومی سیاسی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کے خلاف ایسے متنازع بیانات سے اجتناب کریں’۔

‘فوج برداشت، تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے’

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار نے بیان کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘قانون میں بالکل وضع کردیاگیا اور وقت آنے پر آئین اور قانون کے تحت ہی وہ تعیناتی اپنے وقت پر ہوجائے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس عہدے کو بلاوجہ موضوع بحث بنانا، بلاوجہ ہر جگہ پر اس کے اوپر بات کرنا، اس عہدے کو متنازع بنانے کے مترادف ہے، جو نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہمارے ادارے کے مفاد میں ہے’۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘ایک دفعہ پھر درخواست کرتا ہوں کہ اس چیز کو بلاوجہ موضوع بحث مت بنایا جائے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بیان میں تفصیل کے ساتھ واضح کیا ہے، خاص کر پچھلے چند دنوں میں ہماری سینیئر سیاسی قیادت کی طرف سے مختلف مواقع پر کافی ایسے بیانات آئے ہیں جو انتہائی نامناسب ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کافی عرصے سے بطور ادارہ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں، درخواست کر رہے ہیں کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں اور سیاسی گفتگو کا حصہ مت بنائیں’۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘ہمارے ملک کے سلامتی کے چینلجز بہت زیادہ ہیں، ہماری افواج مشرقی، مغربی اور شمالی سرحد اور اندرونی سیکیورٹی کی مد میں انتہائی اہم ذمہ داریاں سرانجام دے رہی ہیں اور ہماری تمام قیادت کی توجہ ان ذمہ داریوں پر ہے اور اپنے ملک کی حفاظت کے اوپر ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جو بھی سیاسی صورت حال ہے، اس کے اوپر بطور ادارہ ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے’۔

‘مسلح افواج کا کردارعوام کے لیے ہمیشہ اچھا رہے گا’

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا کہ پاکستان کے عوام اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں اور مسلح افواج کا کردارعوام کے لیے ہمیشہ اچھا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افواج اور عوام کے کردار میں کسی قسم کی دراڑ نہیں آسکتی، پچھلے چند دنوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت نے مسلح افواج کی قیادت کے خلاف بیانات دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سیکیورٹی چیلنجز اتنے بڑے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں شامل نہیں ہوسکتے، اگر ملک کی حفاظت کے اندر کوئی بھول، چوک ہوئی تومعافی کی گنجائش نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندر تقسیم ہوسکتی ہے تو اس کو فوج کے بارے پتا ہی نہیں، پوری فوج ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج اپنے آرمی چیف کی طرف دیکھتی ہے، کسی کوکوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی فوج کے اندر تقسیم پیدا کرسکتا ہے۔

‘سوشل میڈیا پر تنقید نہیں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے’

ان کا کہنا تھا کہ واضح کردوں جائز تنقید سے مسئلہ نہیں ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر تنقید نہیں پروپپگنڈا کیا جاتا ہے، واضح کردوں فوج کے اندر کسی بھی رینک میں کمانڈ کا عہدہ اہم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی کور کی کمانڈ آرمی چیف کے بعد اہم عہدہ ہوتا ہے، ہماری 70 فیصد فوج تعینات ہے، مختلف جہگوں پر انسداد دہشت گردی آپریشن کر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں نے کرنا ہے، فوج کا کوئی کردار نہیں، سیاست دان اس قابل ہیں کہ وہ بیٹھ کر بہتر طریقے سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی فوج کو کسی سیاسی معاملے میں بلایا گیا تو معاملہ متنازع ہوجاتا ہے، سیاست دان الیکشن کا فیصلہ بیٹھ کرہی کرسکتے ہیں۔

میجر جنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ الیکشن کے دوران سیاست دان فوج کو سیکیورٹی کے لیے بلائیں گے تو اپنی خدمات پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کبھی بھی سیاست دانوں کو ملاقات کے لیے نہیں بلاتی، جب فوج کودرخواست کی جاتی ہیں توپھر آرمی چیف کو ملنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ساری کی ساری ذمہ داری سیاست دانوں پر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے دورے اوپن نہیں کیے جاتے، دورے بیک گراؤنڈ چلتے رہتے ہیں، تمام ممالک کے انٹیلی ایجنس چیفس کے ساتھ ملاقات اور انٹیلی انجس شیئرنگ ہوتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسے معاملات میں کوئی ابہام پیدا نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے افسران، جوان سوسائٹی سے دور ہیں، جب افواہیں اور ادارے کے بارے میں غلط بات چیت ہو تو ان تک بھی پہنچتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات سے ادارے کا مورال متاثر ہوتا ہے، افسر اور جوان ایک ہیں، ہماری قیادت کا معیار بہت اعلیٰ ہے، ہمارے جوانوں کو اپنے آرمی چیف اور کمانڈر پر یقین ہوتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کے ہر رینک نے شہادتیں دی ہے، قیادت پر تنقید سے ہر فوجی متاثر ہوتا ہے، فوج کا سینٹر آف گریویٹی آرمی چیف ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاوجہ آرمی چیف کے عہدے پر تنقید کے منفی اثرات ہوتے ہیں۔

سیاست دانوں کے حالیہ بیانات

آئی ایس پی آر کی جانب سےجاری بیان میں کسی خاص سیاست دان کا نام نہیں لیا گیا تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں دیے گئے بیان کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید 16 جون 2019 سے 19 اکتوبر 2021 تک انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ رہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ روز کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں ایک سوال پر کہا تھا کہ ‘بیچارہ کھڈے لائن ہے’۔

بعد ازاں انہوں نے وضاحتی بیان جاری کرتےہوئے کہا تھا کہ مذکورہ الفاظ ‘نادانستہ’ طور پر ادا ہوئے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بطور آرمی چیف تقرر سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ‘میں اس حوالے سے کیا کہہ سکتی ہوں تاہم پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان کے لیے بھی اچھا ہے کہ کوئی اہل شخص جس پر کوئی داغ نہ ہو وہ افواج پاکستان کا سربراہ بنے گا تو فوج کو لوگ سلیوٹ کریں گے’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے لیے پاک فوج کا ادارہ قابل احترام ہے، پوری قوم پاکستان کی حفاظت اور استحکام کے لیے افواج پاکستان کو دیکھتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے وزیردفاع خواجہ آصف کے اس بیان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام بھی اگلے آرمی چیف کے لیے تجویز کیا جاسکتا ہے۔

مریم نواز نے گزشتہ ہفتے فتح جنگ میں جلسے سے خطاب کے دوران بھی عمران کی جانب سے پوڈ کاسٹ میں انٹیلیجینس چیف کو ‘آنکھ اور کان’ قرار دینے کے بیان پر تنقید کی تھی۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا تھا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ وہ آپ کی صرف آنکھ اور کان نہیں تھا بلکہ وہ آپ کا ہاتھ تھا جس کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کا گلا دبایا’۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort