پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی سے قومی خزانے پر 75 ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان

imran
imran 14 مئی, 2022
Updated 2022/05/14 at 8:43 صبح
627f69fa0124a
627f69fa0124a

اگر حکومت آئی ایف کی شرائط کے تحت پرائس ڈیفرنشل کلیم کے طور پر آئل کمپنیوں کو ادائیگیوں میں کوئی سبسڈی دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 86 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے جس میں ٹیکس شامل نہیں ہوگا جبکہ سبسڈی فراہم کرنے کی صورت میں قومی خزانے پر 75 روپے بوجھ پڑ سکتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں مقیم آئی ایم ایف کے نمائندے استھر پریز روئز کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 18 مئی سے دوحہ میں موجود پاکستانی حکام کے ساتھ اسٹاف میشن کا آغاز کرے گی۔

آئی ایم ایف اور مفتاح اسماعیل کی زیر قیادت اقتصادی ٹیم نے اپریل کے آخری ہفتے میں آئی ایم ایف فنڈ پروگرام کو بحال کرتے ہوئے 2 ارب ڈالر کی توسیع اور آئندہ بجٹ میں ایندھن اور توانائی کی سبسڈی سمیت دیگر اقدامات کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے ساتھ ایک سال کی توسیع پر اتفاق کیا گیا۔

حکومت اس وقت پیٹرول پر 31 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 73 روپے فی لیٹر سبسڈی فراہم کر رہی ہے علاوہ ازیں بجلی پر فی یونٹ 5 روپے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرہ کے حساب کے مطابق اگر درآمدات کے اخراجات صارفین تک پہنچائے جائے تو پیٹرول پر 47 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر تقریباً 86 روپے فی لیٹر اضافہ ہوگا۔

اسی طرح مٹی کے تیل اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بالترتیب 52 روپے اور 69 روپے فی لیٹر اضافے کا حساب لگایا گیا ہے جس میں ٹیکس شامل نہیں ہوگا۔

اس عمل کے لیے رواں ماہ کے اختتامی پندرہ روز کے لیے پی ڈی سیز کے طور پر آئل کمپنیز کو قومی خزانے سے تقریباً 75 ارب روپے کی اضافی رقم ادا کرنی ہوگی۔

اوگرہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹ کی موجودہ شرح جو اس وقت زیرو ہے، اس کے مطابق تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 46 سے 86 فیصد فی لیٹر اضافہ ہونا چاہیے تاکہ سبسڈی کے کسی عنصر کے بغیر صارفین سے بریک ایون (وہ قیمت جس میں نافع حاصل ہو نہ ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑے) قیمت حاصل کی جاسکیں۔

اس کیس میں ایچ ایس ڈی کے ایکس ڈپو پرائس 230 روپے فی لیٹر ہیں جبکہ اس کی موجودہ قیمت 144 روپے 15 پیسے ہے، جس میں 86 روپے فی لیٹر یعنی 60 فیصد اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

پیٹرول کے ایکس ڈپو پرائس 149روپے86 پیسے کے بجائے تقریباً 195 روپے ہیں، جو تقریباً 47 روپے یا 31 فیصد فی لیٹر زیادہ ہیں۔

اسی فارمولے تحت مٹی کے تیل کے ایکس ڈپو پرائس تقریباً 176 روپے فی لیٹر ہے جبکہ یہ 125 روپے 56 پیسے فی لیٹر فروخت کیا جارہا ہے جس میں تقریباً 12 روپے 41 پیسے کا فرق ہے۔

لائٹ اسپیڈ ڈیزل کے ایک ڈپو پرائس 204 روپے ہے جبکہ صارفین کے لیے اس کی قیمت 118.31 پیسے ہے، جس میں 68 روپے کا 57 فیصد اضافے کی ضرورت ہے۔

دوسرا لیکن غیر معمولی منظر نامہ ٹیکس کی شرح کو مکمل طور پر مدنظر رکھنا ہے، جس میں تمام مصنوعات پر 17 فیصد جی ایس ٹی اور ایچ ایس ڈی اور پیٹرول پر 30 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی، اس کے بعد مٹی کے تیل پر 12 روپے فی لیٹر اور ایل ڈی او پر 10 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی سمیت فنانس بل کے تحت قابل اجازت نرخ شامل ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ خالصتاً ایک سیاسی فیصلہ ہوگا اور اس میں سبسڈی کو پہلے ہی نصف تک کم کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

ان نرخوں پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قابل ادائیگی پی ڈی سیز کے کل اثرات کا تخمینہ مئی کے لیے تقریباً 96 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو مارچ میں 69 ارب روپے اور اپریل کے پہلے 24 دنوں میں 62 ارب روپے تھا۔

اس آرٹیکل کو شیئر کریں۔
ایک تبصرہ چھوڑیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

AllEscort