مرکزی ملزم ظاہر جعفر اور دیگر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ | اردو میڈیا

admin
admin 23 December, 2022
Updated 2022/12/23 at 10:25 AM
7 Min Read
311043 040358 updates
311043 040358 updates

چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپیلوں کو یکجا کر کے سماعت کی__فوٹو: فائلاسلام آباد ہائیکورٹ نے نورمقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر اور دیگر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ مقتولہ نور مقدم کے والد مدعی شوکت مقدم کی جانب سے مرکزی مجرم کے والد اور تھراپی ورکس ملازمین کی بریت جبکہ چوکیدار اور مالی کی سزا بڑھانے کی اپیلوں پر بھی فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپیلوں کو یکجا کر کے سماعت کی۔ عدالت نے کہا یہ بات تو طے ہے کہ وقوعہ پرسب سے پہلے تھراپی ورکس والے پہنچے۔ پراسیکیوشن کے گواہ رکھنے کے بجائے آپ نے اتنے زیادہ ملزم کیوں رکھ دیے؟ مدعی کے وکیل بابرحیات نے کہا اگر تھراپی ورکس والوں کا تعاون کا ارادہ ہوتا تو وہ پولیس سے تعاون کرتے۔ تھراپی ورکس کو اس لیے رکھا کیونکہ انہوں نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔تھراپی ورکس کو کنڈکٹ کی وجہ سے کیس میں ملزم بنایا گیا تھا۔ عدالت نے پوچھا کیا تھراپی ورکس اور والدین اغوا اور قتل میں ملوث تھے؟ اگرآپ تھراپی ورکس کوگواہ بناتے تو شاید وہ پراسیکیوشن کے ساتھ زیادہ تعاون کرتے۔ ظاہرجعفرکے وکیل عثمان کھوسہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اور ڈی وی آر فوٹیج قبضے میں لے کرپیش کرنے کے طریقے پراعتراض کیا۔ انہوں نے کہا جس پولیس کانسٹیبل نے ڈی وی آرقبضے میں لی اس کا بیلٹ نمبرنہیں لکھا گیا نا ہی اس نے ریکوری میموپردستخط کیے۔ ظاہر جعفر کے وکیل عثمان کھوسہ نے کہا کیا صرف سی سی ٹی وی کی بنیاد پرسزا دے سکتے ہیں؟ آج کے زمانے میں یہ غیرمحفوظ ہے۔جس پر  چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا ڈی وی آرمیں جو 2 لوگ نظر آرہے ہیں وہ مقتولہ اورمجرم ہیں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ باہرسے کوئی بندا آیا تھا۔ ظاہر جعفر کے وکیل بولے خون کا سیمپل لیتے ہوئے فنگرپرنٹس مٹنے کی بات پریقین نہیں رکھتا، چاقو کے دستے پر کچھ نہ کچھ نشانات موجود ہوتے ہیں۔ عثمان کھوسہ نے کہا ایسی سزا صرف عادی مجرموں کو دی جاتی ہے تاکہ deterrence ہو۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان پر دباؤ ہے کہ سزائے موت کو ختم کیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا یہ تو قانون سازی کا معاملہ ہے اور قانون سازوں نے دیکھنا ہے۔ وکیل نے کہا ظاہر جعفر امریکی شہری اور نیو جرسی کا رہنے والا ہے جہاں قانون میں سزائے موت کا تصور نہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ اس نکتے کو بھی مدنظر رکھے جس پر چیف جسٹس نے کہا ہمارے ملک آزاد اور ہمارا اپنا قانون ہے، ہم نے اس پر عمل کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فریقین کے وکلا 7 دن میں اضافی تحریری دلائل جمع کرا سکتے ہیں جس کے بعد اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

Judgment reserved on the appeals against the sentence of the main accused Zahir Jafar and others Urdu Media

A division bench consisting of Chief Justice Amir Farooq and Justice Sardar Ejaz Ishaq Khan heard the appeals together.__Photo: File Islamabad High Court has reserved judgment on the appeals against the conviction of the main culprit Zahir Jafar and others in the Noor Muqadam murder case. On behalf of the plaintiff Shaukat Moghadam, the father of the deceased Noor Moghadam, the acquittal of the father of the main culprit and the employees of Therapy Works, while the appeals for increasing the punishment of the watchman and the financial officer were reserved. The division consisting of Chief Justice Amir Farooq and Justice Sardar Ijaz Ishaq Khan The bench heard the appeals together. The court said that it is certain that the people of Therapy Works reached the incident first. Why did you put so many accused instead of prosecution witnesses? The plaintiff’s lawyer, Babrihyat, said that if the Therapy Works people were willing to cooperate, they would have cooperated with the police. Therapy Works was held because they did not report to the police. Therapy Works was accused in the case because of its conduct. The court asked whether the therapy works and the parents were involved in the kidnapping and murder. If you had made Therapy Works a witness, he might have been more cooperative with the prosecution. Zahir Jaafar’s lawyer Usman Khosa tried to make the CCTV footage controversial and objected to the manner in which the DVR footage was seized and presented. He said that the ballot number of the police constable who seized the DVR was not written down nor did he sign the recovery memo. Usman Khosa, Zahir Jafar’s lawyer, said, “Can you give punishment only on the basis of CCTV?” It is unsafe in today’s times. On which Chief Justice Amir Farooq said that the 2 people who are seen in the DVR are the dead and the criminals. No one said that someone came from outside. Zahir Jafar’s lawyer said that while taking the blood sample, fingerprints are not erased, there are some marks on the handle of the knife. Usman Khosa said that such punishment is given only to habitual criminals as deterrence. At the international level, there is pressure on Pakistan to abolish the death penalty. The Chief Justice said that this is a matter of legislation and the legislators have to look into it. The lawyer said that apparently Jafar is an American citizen and a resident of New Jersey, where the law does not have the concept of death penalty. It has to be followed. The court said counsel for the parties could file additional written arguments within 7 days after which it reserved judgment on the appeals.

Share this Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *