نیٹ فلکس پر فلسطینی لڑکی کی کہانی پر مبنی فلم فرحہ کی ریلیز : اسرائیل میں شوربرپا کیوں؟ | اردو میڈیا

admin
admin 22 December, 2022
Updated 2022/12/22 at 10:55 AM
11 Min Read
311165 025546 updates
311165 025546 updates

فلم فرحہ کی کہانی ایک فلسطینی لڑکی فرحہ کی ہے جس کا گاؤں 1948 میں ہونے والے اسرائیل فلسطین تنازعے کے باعث اسرائیلی فورسز کے نشانے پر ہے/فوٹوفائلچند دن قبل امریکی اسٹریمنگ سائٹ نیٹ فلکس پر 2021 میں ریلیز ہونے والی فلم فرحہ ریلیز کی گئی اور اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی۔ اسرائیلی شہر جافا کے ایک تھیٹر میں جہاں یہ فلم نمائش کے لیے پیش کی جانی تھی ریاست نے اس تھیٹر کی فنڈنگ روکنے کا بھی ارادہ کرلیا،فلم فرحہ کو اسرائیل نے اپنے خلاف پروپگینڈا قرار دیا ۔لیکن اس فلم میں ایسا کیا دکھایا گیا اس پر  ایک طرف سوشل میڈیا پر جہاں بحث کی جارہی ہے  وہیں اسرائیل آفیشلز کی جانب سے بھی شدید رد عمل سامنے آیا ہے ۔فلم کی کہانی ایک فلسطینی لڑکی فرحہ کی ہے جس کا گاؤں 1948 میں ہونے والے اسرائیل فلسطین تنازعے کے باعث اسرائیلی فورسز کے نشانے پر ہے، حالات بگڑنے پر اپنے ہی گھر کے ایک حصے میں چھپنے والی یہ لڑکی اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ایک فلسطینی فیملی کا قتل ہوتے ہوئے دیکھ لیتی ہے ۔یہ کردار ایک ایسی 14 سالہ لڑکی کا ہے جو گاؤں کی روایات کو پس پشت ڈال کر اپنا خواب پورا کرنے کی ٹھان لیتی ہے لیکن اس کے گاؤں پر اسرائیلی فوج کا حملہ سارے خواب چکنا چور کردیتا ہے ۔اس فلم کے ایک سین میں حملے کے آثار دیکھتے ہوئے انتظامیہ کو عرب فوسز کی مدد کا انتظار کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے جو اگر بروقت پہنچ جاتی تو شاید کہانی مختلف ہوتی۔اردن فلمساز دارین سلام کی یہ پہلی فلم ہے جو 2021 میں ریلیز ہونے کے بعد کئی فلم فیسٹیولز میں دکھائی جاچکی ہے اور2023 کے آسکرز کیلئے اردن کی طرف سے نامزد بھی کی گئی ہے ۔ 2021 میں فرحہ کے ریلیز ہونے پر اسرائیل اور حمایتی گروپس نے کافی شور مچایا، احتجاج کا اعلان ہوا لیکن سب بے سود ثابت ہوا اور فلم پر پابندی نہ لگائی جاسکی ۔۔ااب یہ کہانی، اسرائیل فلسطین تنازعے کے حقیقی واقعات پرمبنی ہونے کی وجہ سے دیکھنے والوں کو فلسطین میں گزرنے والی زندگی کی جھلک دکھا رہی ہے جس سے لوگ متاثر ہوکر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں ۔

فلم میں ڈائریکٹر دارین سلام نے اسرائیل کے حملے سے پہلے جو فلسطین دکھایا ہے وہ دیکھنے والوں کو اس سرزمین کی خوبصورتی کی تعریف کرنے پر مجبور کردیتا ہے ، اس میں کمال بات یہ ہے کہ یہ کہانی آپ کو اس دنیا میں لے جائے گی جہاں آپ ہر کردار کو قریب محسوس کر سکیں گے ۔فلم میں فرحہ کا مرکزی کردار نبھانے والی اداکارہ کرم طاہر اوپننگ شارٹ سے کلائمیکس تک اسکرین پر دکھائی دی ہیں اور بعض سیکوئنس میں بنا ڈائلاگز کے بھی انہوں نے کہانی کہہ ڈالی ہے ، ان کی پرفارمنس پر جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ایکسٹراز میں نظر آنے والے بچے حقیقت میں فلسطینی مہاجرین ہیں ، جن کے متعلق ایک انٹرویو میں ڈائریکٹر نے بتایا کہ فلم میں ایک سین گھرانوں کے بچھڑنے کا ہے جب یہ سین کٹ ہوا تو سارے بچے اپنے آنسوں صاف کر رہے تھے، یہ کہانی ان سے اتنی قریب ہے کہ ایک سین نے انہیں اپنے اوپر گزرنے والے واقعات کی یاد دلادی تھی۔ٹوئٹر پر کچھ دن قبل اس فلم کے بارے میں ٹرینڈ چلا جہاں لوگ مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے ۔کچھ نے فلم پر آنے والے اسرائیلی آفیشلز کے رد عمل کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ یک طرفہ کہانی ہے تو نیٹ فلکس پر لاتعداد پرو اسرائیل کانٹینٹ بھی دکھایا گیا ہے، ایک فلسطینی کہانی دکھانے پر اسرائیل اتنا شور کیوں مچا رہا ہے ؟ بعض نے نیٹ فلکس پر تنقید کی کہ وہ فکشن کے ذریعے یک طرفہ کہانی کیسے دکھا سکتے ہیں خاص طور پر فلم کا وہ حصہ جس میں ایک فلسطینی گھرانے کو اسرائیلی فوجی کے ہاتھوں قتل ہوتا دکھایا گیا ہے ۔یہ فلم 1948 کے ان واقعات پر مبنی ہے جو ایک 14 سالہ نوجوان لڑکی نے فلسطین کی سرزمین پر خود دیکھے ہیں،  ڈائریکٹر دارین سلام نے فلم سے متعلق ایک انٹرویو میں بتایا کہ:’یہ کہانی 1948 میں فلسطین کی رہنے والی رضیہ نامی خاتون نے شام پہنچنے پر ایک نوجوان لڑکی کو سنائی تھی  اس لڑکی نے ایک بیٹی کو جنم دیا اور وہ بیٹی میں ہوں‘، انہوں نے کہا کہ یہ کہانی میری والدہ نے مجھے سنائی تھی اور تب سے  میں نے اس  لڑکی کے بارے میں سوچنا شروع کیا ۔

The release of Farha, a film based on the story of a Palestinian girl, on Netflix: Why the uproar in Israel? | Urdu Media

The story of the movie Farha is about a Palestinian girl, Farha, whose village is targeted by Israeli forces due to the Israeli-Palestinian conflict in 1948/Photofile. A few days ago, the movie Farha, released in 2021, was released on the American streaming site Netflix. Since then, a debate has erupted on social media. In a theater in the Israeli city of Jaffa, where this film was to be shown, the state also decided to stop the funding of the theater. On the one hand, where there is a discussion on social media, there has also been a strong reaction from Israeli officials. The story of the film is about a Palestinian girl, Farha, whose village was targeted by Israeli forces due to the Israeli-Palestinian conflict in 1948. This girl who hides in a part of her own house when the situation worsens sees a Palestinian family being killed by Israeli soldiers. She decides to fulfill her dream, but the attack of the Israeli army on her village shatters all her dreams. In one of the scenes of the film, the management is also shown waiting for the help of the Arab forces while seeing the signs of the attack. Had it arrived on time, maybe the story would have been different. This is the first film of Jordanian filmmaker Darin Salam, which will be released in 2021. After Ney, it has been screened in many film festivals and has also been nominated by Jordan for the 2023 Oscars. On the release of Farha in 2021, Israel and support groups made a lot of noise, protests were announced but all proved futile and the film could not be banned. The viewers are being shown a glimpse of the life in Palestine, from which people are expressing solidarity with the Palestinians.

Director Darien Salam’s depiction of Palestine before the Israeli invasion forces the viewer to appreciate the beauty of the land, and what’s great about this story is that it takes you into a world where you You will be able to feel close to each character. The actress Karam Tahir, who plays the main role of Farha in the film, has appeared on the screen from the opening short to the climax and she has also told the story through the dialogues in some sequences. The children seen in the extras are actually Palestinian refugees. In an interview, the director said that there is a scene in the film where the families are separated. When the scene was cut, all the children were wiping their tears. This story is so close to him that one scene reminded him of the events that happened to him. A few days ago, a trend started on Twitter about this film where people were seen expressing different views. Describing the reaction of Israeli officials as baseless, he also raised the question if this is a one-sided story So countless pro-Israel content has been shown on Netflix, why is Israel making so much noise for showing a Palestinian story? Some criticized Netflix for showing a one-sided story through fiction, especially the part of the film that shows a Palestinian family being killed by an Israeli soldier. The film is based on the events of 1948. is what a 14-year-old girl has seen herself on the land of Palestine, director Darien Salam said in an interview about the film: “This story was told to a young girl in 1948 by a woman named Razia, a resident of Palestine, when she arrived in Syria. This girl gave birth to a daughter and that daughter is me’, he said that this story was told to me by my mother and since then I started thinking about this girl.

Share this Article
Leave a comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *